Skip to main content

Islamic Ruling on Using Masjid Shoe Racks

اردو ترجمہ نیچے
بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
 

Islāmic Ruling on Using Masjid Shoe Racks

The proper maintenance and respect of masājid is a fundamental aspect of Islamic practice, with specific rulings governing how Muslims should conduct themselves in these sacred spaces. The Masjid is more than just a place of worship—it is the heart of the Muslim community, where values, respect, and discipline are passed down from one generation to the next. The more senior worshippers have the responsibility to set an example for others, especially the youth who watch and learn from them. Your actions, no matter how small, are noted and can shape the future of the community.

  • It is impermissible to carelessly leave shoes scattered at the masjid when proper shoe racks or storage facilities have been provided.
  • This behaviour has been classified as makruh and may even reach the level of harām when it causes inconvenience to other worshippers.
  • The Prophet Muhammad (ﷺ) stated: "Cleanliness is half the faith." (Muslim 223)
  • Everything you do in the masjid is noted. Respecting cleanliness and rules encourages others to do the same.
  • The Prophet Muhammad (ﷺ) said: "The best among you are those who have the best manners and character". 
  • Not using the shoe racks provided deliberately as a routine for personal preference or convenience may be seen as a sign of arrogance, pride or disrespect for the masjid administration.

A.Hussain, March 2025


 

_____________________________________

مسجد میں جوتے رکھنے کے آداب پر اسلامی حکم

مسجد کی صحیح دیکھ بھال اور اس کا احترام اسلامی عبادات کا ایک بنیادی جز ہے، اور اس میں مخصوص احکام شامل ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان مقدس مقامات میں کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ یہ مسلم معاشرے کا مرکز ہے، جہاں اقدار، احترام اور نظم و ضبط ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ بزرگ نمازیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے، ایک مثبت مثال قائم کریں جو ان سے سیکھتے ہیں اور ان کے اعمال کی پیروی کرتے ہیں۔ آپ کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال بھی نظر میں آتے ہیں اور وہ کمیونٹی کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

• جب مسجد میں مناسب جوتے رکھنے کی سہولت یا ریک موجود ہو تو جوتے بے ترتیبی سے بکھیر کر چھوڑ دینا ناجائز ہے۔
• یہ عمل مکروہ ہے اور اگر اس سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہو تو یہ حرام کے درجے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
• نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا: "صفائی نصف ایمان ہے۔" (مسلم 223)
• مسجد میں کیا گیا ہر عمل نوٹ کیا جاتا ہے۔ مسجد کی صفائی اور اصولوں کا احترام کرنے سے دیگر نمازیوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
• نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اخلاق اور کردار کے لحاظ سے سب سے اچھے ہیں۔"
• اگر کوئی شخص محض اپنی سہولت یا پسند کی وجہ سے مستقل طور پر جوتے ریک میں نہ رکھنے کی عادت بنا لے، تو یہ تکبر، غرور یا مسجد انتظامیہ کے لیے عدم احترام کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔