Skip to main content

Borrowing Money and Property From The Masjid

بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
 

Every item within our masjid,  its money, its chairs, its sound system, its carpets belongs to no individual. Not to the imam, not to the committee, not to the most generous donor. Once given for the mosque, it becomes Waqf, a charitable endowment dedicated permanently to Allah's cause, and Amanah, a sacred trust placed in the hands of whoever manages it. This is not a minor technicality. It is a matter that touches the very integrity of our collective worship.

Allah () is unambiguous on this point:

"Do not consume one another's wealth unjustly..." (Surah Al-Baqarah, 2:188)

And regarding trusts specifically Allah () says:

"Indeed, Allah commands you to render trusts to those to whom they are due..." (Surah An-Nisa, 4:58)

A common temptation is to see mosque money sitting untouched and think: I'll just borrow it quietly and return it before anyone notices. Islamic scholarship across all four Sunni schools, Hanafi, Maliki, Shafi'i, and Hanbali rejects this outright. A masjid trustee nor any member of the masjid management has no right to take a personal loan from waqf funds, even with every intention of repaying it. 

The same applies to physical items. Chairs, tools, carpets, and equipment are donated for the direct benefit of the mosque and its community, not for private events or personal households use. Unless a masjid’s deed (constitution) explicitly permits public lending, or the masjid committee has established a transparent, equally-accessible policy for the whole community, no committee member has the right to take mosque property home, not for one night, and not "just this once."

Contemporary fiqh councils describe the private, undisclosed use of a masjid’s assets as a form of ghulul, the betrayal of a public trust, a sin the Qur'an treats with particular severity precisely because it is so easily hidden from public view. It is not the borrowing alone that condemns the act; it is the secrecy that so often accompanies it. Transparency is not an optional courtesy in the management of masjid assets, it is an obligation.

The masjid management must put in place clear, written, and accountable systems so that such acts do not occur.

O Allah, make us among the truthful, protect the wealth and property of our mosques from every betrayal, and grant us honesty and transparency in all that we are entrusted with.  Ameen


A.H. (August 2026)

 

_________________________________________________________________________________

 

بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
 

مسجد سے پیسے اور سامان اُدھار لینا

ہماری مسجد کی ہر چیز، چاہے وہ پیسہ ہو، کرسیاں ہوں، ساؤنڈ سسٹم ہو، یا قالین ہوں، کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں۔ نہ امام صاحب کی، نہ کمیٹی کی، اور نہ اُس بندے کی جس نے سب سے زیادہ چندہ دیا ہو۔ جب کوئی چیز مسجد کے لیے دی جاتی ہے، تو وہ وقف بن جاتی ہے، ایک ایسا صدقہ جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی راہ میں وقف ہو جاتا ہے، اور امانت بن جاتی ہے، ایک مقدس ذمہ داری جو اُس کے سپرد ہوتی ہے جو اس کا انتظام کرے۔ یہ کوئی چھوٹی سی بات یا رسمی سا اصول نہیں۔ یہ تو ہماری اجتماعی عبادت کی عزت اور ایمانداری سے جُڑا معاملہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں بالکل صاف بات فرمائی ہے:

"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ..." (سورۃ البقرہ، 2:188)

اور امانتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاؤ..." (سورۃ النساء، 4:58)

ہمارے دل میں کبھی کبھی یہ خیال آ سکتا ہے کہ مسجد کا پیسہ یونہی پڑا ہے، تو کیوں نہ چپکے سے تھوڑا سا لے لیں اور بعد میں چپکے سے واپس رکھ دیں، کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ لیکن اسلام کے چاروں بڑے مسالک، حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی، اس سوچ کو بالکل رد کرتے ہیں۔ نہ مسجد کا امین اور نہ کمیٹی کا کوئی رکن، کسی کو یہ حق نہیں کہ وقف کے پیسوں سے ذاتی قرض لے، چاہے نیت واپس کرنے کی ہی کیوں نہ ہو۔

یہی اصول مسجد کے سامان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کرسیاں، اوزار، قالین، اور دوسرا سامان، یہ سب مسجد اور اس کی کمیونٹی کے فائدے کے لیے دیا جاتا ہے، نہ کہ نجی تقریبات یا اپنے گھر کے استعمال کے لیے۔ جب تک مسجد کے آئین یا آئینی دستاویز میں یہ واضح طور پر نہ لکھا ہو کہ سامان عام لوگوں کو دیا جا سکتا ہے، یا جب تک کمیٹی نے پوری کمیونٹی کے لیے ایک شفاف اور برابر کا نظام نہ بنایا ہو، اُس وقت تک کسی بھی کمیٹی ممبر کو یہ حق نہیں کہ مسجد کا سامان اپنے گھر لے جائے، نہ ایک رات کے لیے، اور نہ ہی یہ سوچ کر کہ "بس ایک بار ہی تو ہے"۔

آج کل کے فقہی مجالس یہ کہتے ہیں کہ مسجد کا سامان چپکے سے، بغیر بتائے، ذاتی استعمال میں لانا ایک قسم کی غلول ہے، یعنی عوامی امانت میں خیانت، اور یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے قرآن خاص طور پر سخت سمجھتا ہے، اسی لیے کہ اسے چھپانا اتنا آسان ہوتا ہے۔ اصل جرم صرف اُدھار لینا نہیں، بلکہ وہ چھپاؤ ہے جو اکثر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ مسجد کے سامان کے انتظام میں شفافیت کوئی اختیاری سی نیکی نہیں، یہ تو ایک فرض ہے۔

مسجد کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ واضح، تحریری، اور جوابدہ نظام قائم کرے تاکہ ایسی باتیں کبھی جنم ہی نہ لیں۔

اے اللہ، ہمیں سچے اور امانت دار لوگوں میں شامل فرما، ہماری مساجد کے مال اور سامان کو ہر قسم کی خیانت سے محفوظ رکھ، اور جو کچھ بھی ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس میں ہمیں دیانتداری اور شفافیت کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔